فانیلہ دل افروز کی خوشی کی کوئی انتہا ہی نہ رہی کہ چند روز بعد ہی اسے داخلہ کا پروانہ میسر آگیا، جب اُس نے یہ خبر اپنے گھر والوں کو سنائی تو وہ اس خبر پر خوش ہونے کے بجائے، گہری فکر میں چلے گئے اور فانیلہ دل افروز سے کہنے لگے کہ ’’بیٹا! ہمیں تمہارے ملک سے باہر تعلیم حاصل کرنے پر کسی بھی قسم کا کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن یہ تو بتاؤ ملک سے باہر جانے اور تعلیمی اخراجات کے لیے اتنی خطیر رقم آئے گی کہاں سے۔‘‘
’’آپ اس کی فکر بالکل نہ کریں رقم کا بندوبست ہے میرے پاس،آج سے ٹھیک دو سال پہلے میں نے تعلیم کے موضوع پر ایک بلاگ بنایا تھا، جو اب اتنا مشہور ہو چکا ہے کہ اشتہارات کی مد میں مجھے ٹھیک ٹھاک آن لائن رقم کما کر دے دیتا ہے، جب کہ مجھے اُمید ہے کہ میرا یہ بلاگ دورانِ تعلیم بھی میری خوب مالی مدد کرنے کے قابل ہے۔‘‘
السلام علیکم۔ماشاء اللہ
جواب دیںحذف کریںیہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔
حذف کریں